AL-Muwahideen

 


جب اپنے گھر میں عزت نہ رہے!
تنویر قیصر شاہد(tqshahid@yahoo.com)
ہمارے ایک سابق جرنیل نے مشرقی پاکستانیوں کو سبق سکھانے اور ان کا سرجھکانے کے لیے کہا تھا کہ ہمیں انسان نہیں زمین چاہئے لیکن ان جنرل صاحب کا یہ اعلان خام اور جھوٹا ثابت ہوا۔وہ جنہیں سبق سکھانے کے لئے گئے تھے وہ تو آج بھی موجود ہیں اور ان کی زمین بھی وہیں ہے لیکن اعلان کرنے والوں کو کس عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑا ،اس کا احوال پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے ۔کیا یہ ممکن تھا کہ کوئی خطہ محض زمین کا ٹکڑا تو رہے لیکن وہ انسانوں سے خالی رہے ؟لیکن ایسا سوچابھی گیا اور طاقت کے نشے میں اس پر عمل بھی کیاگیا ۔اگرچہ عوام ہی نہ رہیں تو حکمران کس پر اپنے ہاتھ سیدھے کرسکیں گے ؟خصوصاً غیر منتخب اور غیر جمہوری حکمران کس پر اپنی حاکمیت کا رعب جماسکیں گے ؟ریاست کا کام یہ ہے کہ اپنے شہریوں کو بلاامتیاز مذہب ونسل ورنگ تحفظ فراہم کرے ،انہیں غیرملکی جارحیتوں سے بچائے اور اگر کوئی ریاست کے شیرہ پر ہاتھ ڈالتا ہے تو اس کا تعاقب کرے۔اگر کوئی ریاست اس کے برعکس کردار ادا کرتی ہے تو وہ اور تو سب کچھ ہوسکتی ہے ،غیرت مند ریاست نہیں کہلاسکتی ۔ہمارے سامنے مرزا طاہر حسین کی مثال بطور ثبوت موجود ہے ۔یہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری 18سال قبل قتل کے مقدمے میں روالپنڈی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا ،سیشن کورٹ ،ہائیکورٹ ،شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ چلا اور ہر عدالت نے قاتل قرار دے کر اسے سزائے موت کا حکم سنایا ۔صدر جنرل پرویز بھی اس کی سزائے موت مسترد کرچکے تھے کہ میں قانون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔
لیکن ہوا اس کے برعکس ۔مرزا طاہر حسین کو پہلے 3مئی اور پھر 3اگست 2006ءکو پھانسی دی جانی تھی کہ اس دوران برطانیہ کی طرف سے حکومت پاکستان پر بار بار دباؤ ڈالا گیا کہ اس کے شہری کی سزائے موت معاف کردی جائے ۔اپنے شہری کی جاں بخشی کرانے کے لیے برطانیہ کاولی عہد شہزادہ چارلس بھی پاکستان آیا اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کو بھی اس بہانے پاکستان کا دورہ کرنا پڑا ۔مرزا طاہر حسین برطانوی شہزادے اوربرطانوی وزیر اعظم کا ہم مذہب بھی نہ تھا لیکن انہوں نے اپنے شہری کی زندگی بچانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادی ۔آخر ہمارے صدر صاحب نے اس دباؤ کے تحت اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور مرزاطاہر حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا۔ جس روز برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر پاکستان اتررہے تھے ،اس شام مرزا طاہر حسین کو وی آئی پی مسافر کی حیثیت میں حکومت پاکستان برطانیہ بھجوارہی تھی ۔اپنے ملک کے ایک عام شہری کو بچانے کے لئے یہ برطانیہ کی ایک بے مثال فتح تھی ۔برطانوی حکومت نے مرزا طاہر حسین کو رہا کرنے کے لئے کبھی نہیں کہا تھا بلکہ یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ مرزا طاہر کو سزائے موت نہ دی جائے لیکن حکومت پاکستان نے مزید وسیع الظّرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی بلکہ اسے رہا کرکے برطانیہ بھی بھجوادیا ۔سوال یہ ہے کہ ایک برطانوی شہری کوبچانے کے لئے برطانیہ کے حکمران نے جتنی تگ ودو کی ،کیا پاکستان کے حکمران اپنے کسی شہری کی زندگی بچانے کے لئے اتنی اعلیٰ سطحی کوششیں متواتر اور تسلسل کے ساتھ کرسکتے تھے؟
ہم سب جانتے ہیں کہ اس کا جواب کیا ہے لیکن ستم کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے ہی ملک میں بسنے والے اپنے بے گناہ شہریوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تاکہ دہشت گردی کے خلاف برپاکردہ امریکی جنگ میں سرخرو ہوسکیں اور امریکی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کی جاسکے ۔اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن تازہ ترین مثال عبدالرحیم مسلم دوست کی سامنے آئی ہے ۔عبدالرحیم پیشے کے اعتبار سے اخبار نویس ہے لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے اسے اور اس کے بھائی بدرالزماں بدر کو کڑی سزادی ہے ۔نومبر 2001ءمیں دونوں بھائیوں کو پشاورسے پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی نے یہ الزام لگا کر پکڑلیا کہ ان کا تعلق ”القاعدہ“سے ہے ۔جس وقت انہیں گرفتار کیا گیا ،اس وقت دونوں بھائی نماز ادا کرکے مسجد سے نکل رہے تھے ۔گرفتاری کے بعد انہیں پاکستانی حاکموں نے امریکی فوج کے حوالے کردیا جو انہیں پہلے کئی ماہ تک افغانستان میں تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور بعد ازاں انہیں گوانتا ناموبے کی عالمی سطح پربدنام زمانہ امریکی جیل میں منتقل کردیا گیا۔بہت سے بے قصوروں کی طرح یہ دونوں بے قصور بھائی ،عبدالرحیم مسلم دوست اور بدرالزماں بدر ،بھی پانچ سال تک گوانتا ناموبے کی قید میں تعصب اور تشددکانشانہ بنتے رہے ۔بعد ازاں امریکیوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا اور یوں گزشتہ سال کے آغاز میں دونوں رہا کرکے پشاور بھیج دیے گئے ۔جس وقت یہ دونوں بھائی سرحد کے صوبائی دارالحکومت پہنچے ان کی ہیئت کذائی دیدنی تھی ۔امریکیوں نے ان سے جو سلوک کیا تھا ،اس کی گواہی ان کے بدن دے رہے تھے ۔
لیکن ان کی آزمائش کی گھڑیاں ختم نہیں ہوئیں اب عبدالرحیم مسلم دوست نے پشتو زبان میں ایک کتاب ”دگوانت ناموتی زولینی“یعنی ”گوانتاناموبے کی ٹوٹی زنجیریں “لکھی ہے ،جس میں گرفتاری کے لمحات سے لے کر رہائی تک کی ساری داستان رقم کردی گئی ہے۔پاکستان کی اس خفیہ ایجنسی کانام لے کر پوری کہانی ”شرح صدر “کے ساتھ لکھ دی گئی ہے جس نے انہیں چند ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا ۔عبدالرحیم اور ان کے بھائی بدرالزماں کا کہنا ہے کہ جب یہ کتاب اشاعت کے مراحل سے گزررہی تھی تو پشاور میں خفیہ ایجنسی کے سینئر لوگ بار بار ان کے گھر آتے رہے کہ یہ کتاب شائع نہ کی جائے لیکن وہ باز نہ آئے ۔کتاب شائع ہوکر سامنے آئی ہے تو پڑھنے والوں نے خفیہ ایجنسی کا ایک لرزہ خیز چہرہ دیکھا ۔کتاب کی اشاعت کے بعد مصنف عبدالرحیم دوست کو اغواءکرلیا گیا ۔وہ گزشتہ کئی ماہ سے لاپتہ ہے ۔اس کے بھائی بدرالزماں کا کہنا ہے کہ اسے اسی خفیہ ایجنسی نے کہیں چھپایاہے جس نے پانچ سال قبل انہیں گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا تھا اور جس کے بارے میں عبدالرحیم نے اپنی کتاب میں سخت تنقید کی ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ دنوں حکومت پاکستان سے احتجاج کیا تھا کہ اخبار نویس عبدالرحیم مسلم دوست کو عدالت کے روبرو کیوں پیش نہیں کیا جارہا ۔ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ عبدالرحیم سے نہ تو کسی وکیل کو ملنے کی اجازت دی جارہی ہے اور نہ ہی اس کے بیوی بچوں کو ملنے دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے حصے میں یہ منفرد اعزاز آیا ہے کہ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے خود اپنے ملک کے سینکڑوں شہریوں کوپکڑپکڑ کر غیر ملک کے حوالے کیا ۔اس سلسلہ میں گناہ گار اوربے گناہ کی بھی تمیز نہ کی گئی ۔شاید یہ تاریخ انسانی کا پہلا واقعہ بلکہ سانحہ ہے کہ کوئی ملک خود اپنے شہریوں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کردے اور کہے جو مرضی ہے ان سے سلوک کریں ،ہم تعرض نہیں کریں گے ۔اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے اور اپنی کرسی کو مضبوط کرنے کے لئے ان حکمرانوں نے اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ دوستوں کی بھی پامالی کردی ۔اس غیر انسانی ،غیر اخلاقی اورغیر آئینی حرکت کی ایک اور اندوہناک بلکہ شرمناک کہانی پاکستان میں تعینات طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف نے بھی اپنی کتاب میں لکھی ہے ۔ملا عبدالسلام ضعیف کا کوئی جرم نہ تھا اورنہ ہی انہوں نے کوئی سفارتی آداب پامال کئے تھے لیکن ان کا بس یہ قصور تھا کہ وہ طالبان کے نمائندہ تھے اور 11ستمبر2001ءکے واقعہ کے بعد طالبان راتوں رات ہمارے لئے اچھوت بن گئے تھے ۔
2جنوری 2002ءکو پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی کے تین اہلکاروں نے اسلام آباد میں عبدالسلام ضعیف کی اقامت گاہ پہنچ کر انہیں یہ پیغام دیا تھاکہ عزت مآب سفیر صاحب ،اب آپ مزید عزت مآب نہیں رہے ۔ان میں سے ایک نے کچھ ایسا بھی کہا تھا کہ امریکی طاقت کی کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا ۔وہ ملاضعیف کو بتارہے تھے کہ امریکہ آپ سے کچھ پوچھ گچھ کرنا چاہتا ہے اور ہم آپ کو امریکیوں کے حوالے کرنے جارہے ہیں تاکہ ان کا مقصد پورا ہو اور پاکستان ایک بڑے خطرے سے بچ جائے ۔یہ سب سن کر ملا ضعیف حیران رہ گئے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں سمجھاجانا چاہئے ۔آخر اسلام کے محافظوں سے یہ توقع انہیں کیونکر ہوسکتی تھی ۔وہ خود انہی کے الفاظ کے مطابق چند سکوں کے عوض انہیں بطور تحفہ امریکیوں کی خدمت میں پیش کردیں گے ۔
انہیں سخت حفاظت میں پشاور لے جاکر چند روز وہیں پر رکھا گیا ۔اس کے بعد ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں ایک ایسی جگہ لے جایا گیا جہاں ایک ہیلی کاپٹر ان کا منتظر تھا ۔اس ہیلی کاپٹر کے انجن چالوتھے پھر کسی نے انہیں خدا حافظ کہہ دیا ۔کچھ لوگ وہاں انگریزی بول رہے تھے ۔ملا ضعیف اپنی کتاب (جس کے کچھ حصے ایک معاصر نے اردو میں بھی شائع کیے ہیں )میں کہتے ہیں :”ایک دم ہی انہوں نے مجھے دھکا مار کر زمین پر گرادیا تھا ۔چاروں طرف سے مجھ پر لاتوں کی بارش شروع ہوگئی ۔یہ حملہ اس قدر اچانک ہوا کہ میں حواس کھو بیٹھا ۔میری آنکھوں سے پٹی کچھ سرکی تومیں نے دیکھا کہ وہاں ایک طرف پاکستانی فوجیوں کی قطار اور اس کے علاوہ چندگاڑیاں بھی تھیں جن میں سے ایک جھنڈے والی گاڑی بھی تھی ۔میرے کپڑے اتار کر مجھے بے لباس کردیا گیا تھا لیکن میرے سابقہ دوست یہ نظارہ خاموشی سے دیکھتے رہے ان کے ہونٹوں پر چپ کے تالے تھے میں کبھی نہیں بھول سکوں گا ۔وہاں موجود پاکستانی افسران امریکیوں سے یہ تو کہہ سکتے تھے کہ یہ ہمارامہمان ہے اور کم ازکم ہماری موجودگی میں اس کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جائے ،وہ منظر میں اپنی قبر میں بھی نہیں بھول پاؤں گا“۔
امریکیوں کے ہاتھوں ملاضعیف نے ناقابل بیان قسم کا تشدد جھیلاہے ۔انہیں پہلے افغانستان کے صوبے بگرام میں رکھاگیا ۔وہاں سے وہ قندھار لے جائے گئے اورپھر بالآخر انہیں گوانتا ناموبے منتقل کردیا گیا ۔ستمبر 2005ءمیں وہ گوانتاناموبے سے رہا کرکے کابل لائے گئے ان پرکوئی الزام نہیں تھا اورنہ ہی ان کا کوئی جرم ثابت ہوسکا تھا ۔انہوں نے امریکی حراست میں تقریباً چار سال گزارے ۔
قارئین کرام ،ہم نے کے جی بی کے قید خانوں کی تفصیلات بھی پڑھی ہیں لیکن اپنی تمام تر منفی خصوصیات کے باوجود انہوں نے بھی اپنے قیدی کبھی لوہے کے کنٹینروں یا پھر پنجروں میں بند نہیں رکھے تھے ،یہ فن ہمارے امریکی مہربانوں نے کمال تک پہنچایا ہے۔
عبدالرحیم مسلم دوست اور عبدالسلام ضعیف کے ساتھ جوسلوک کیا گیا اور کیا جارہا ہے ،اسے دوبارہ پڑھئے اور اپنے آئینے میں اپنا مقدر دیکھئے ۔جس قوم کے حکمران اپنے شہریوں کو خود مشتبہ،مشکوک اورمجرم قرار دے کر غیروں کے حوالے کردیں ،اگر اس قوم کے دوسرے شہریوں پر جب نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ اور لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر بے عزت کیا جاتا ہے ،ان کی قمیصیں ،پتلونیں ،اور شلواریں اترواکر انہیں رسوا کیا جاتا ہے تو ہمیں نہ کوئی حیرت ہونی چاہئے اورنہ ہی امریکیوں اوربرطانیوں سے گلہ اور شکوہ کرنا چاہئے ۔جس شخص کی گھر میں کوئی عزت نہ کرتا ہو۔باہر والے بھلا اس کی عزت کیوں کریں گے ؟

(بشکریہ روزنامہ پاکستان جمعۃ المبارک 14ذی الحجہ 1427ھ 5 جنوری 2007ء)

 

 

Download in Pdf

Download in PDF format !

Download in Inpage format!

Download in Inpage format !

Read Online in Gif format

 

Home !

 

 

 

 

 

Muwahideen Urdu Islamic Libarary download in Pdf and Inpage format !!!

 CONTACT Muwahideen

 

Muslim World Data
Processing Pakistan

eMail:muwahideen


 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


 





Hosted free by FREE WEBSITES - Free Hosting with Online Website Builder!